اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک منتقل ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس رجحان سے حکومت کو بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔
صہیونی اخبار معاریو نے صہیونی ٹیکس اتھارٹی کی ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل چھوڑنے والے شہریوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد، اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین، ڈاکٹروں اور ۴۰ سے ۵۰ سال عمر کے افراد میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ہجرت کے باعث صہیونی حکومت کو ٹیکس آمدنی میں سالانہ تقریباً ۴۰۰ ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔
صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے بھی رپورٹ کیا کہ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۴ء کے دوران دولت مند صہیونیوں کی بیرونِ ملک ہجرت تقریباً دوگنا ہوگئی، جس کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی ٹیکس آمدنی سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس طبقے کی ہجرت سے ہونے والا ٹیکس نقصان ۲۰۱۹ء میں تقریباً ۱۶۶ ملین ڈالر تھا، جو ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں بڑھ کر تقریباً ۴۰۰ ملین ڈالر ہوگیا۔ اس صورتحال نے صہیونی وزارت خزانہ میں تشویش پیدا کردی ہے۔
ٹیکس نقصان ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ
اسرائیل ہیوم نے صہیونی ٹیکس اتھارٹی کے حکام کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ ہجرت کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ پانچ برس میں سالانہ ٹیکس نقصان بڑھ کر تقریباً ۱.۱۶ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
دستاویز کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے افراد کی اوسط سالانہ آمدنی بھی بڑھی ہے۔ ۲۰۱۹ء میں یہ تقریباً ۴۱ ہزار ۵۰۰ ڈالر تھی، جو ۲۰۲۴ء میں بڑھ کر ۶۶ ہزار ۴۰۰ ڈالر ہوگئی۔ ان افراد میں بڑی تعداد اعلیٰ ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں سے وابستہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں سے وابستہ افراد کی ہجرت تین گنا بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال نے صہیونی حکومت کے لیے ماہرین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے انخلا کا خدشہ مزید بڑھا دیا ہے۔
ہجرت کرنے والوں کی عمری تقسیم بھی صہیونی حکام کے لیے باعث تشویش ہے، کیونکہ نوجوان اور معاشی طور پر فعال افراد کی بیرونِ ملک منتقلی میں اضافہ ہورہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کے دوران ۲۰ سے ۳۰ سال عمر کے تقریباً ایک فیصد صہیونی بیرونِ ملک منتقل ہوئے، جبکہ ۳۰ سے ۴۰ سال عمر کے افراد میں ہجرت کی شرح ۲۰۱۹ء کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہوگئی ہے۔
اس سے قبل بھی صہیونی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ فلسطین سے بڑھتی ہوئی ہجرت کی وجوہات میں جنگوں کے اثرات، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سیاسی بحران کو قرار دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ سیاسی بحران حکمران دائیں بازو کی جانب سے عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے کی جانے والی قانون سازی کی کوششوں کے باعث پیدا ہوا۔
آپ کا تبصرہ